دسمبر 25 دنیا بھر میں حضرت عیسیٰ علیہ سلام کی پیدایش
دسمبر 25 دنیا بھر میں حضرت عیسیٰ علیہ سلام کی پیدایش کے طور پر منایا جاتا ہے ، مسیخی برادری بلخصوص اس دن کو بڑی دھوم دھام سے مناتی ہے ، پاکستان میں اسے سردیوں کی چھٹیاں یا
بڑے دنوں کی چھٹیوں اور قائد آعظم کے یوم پیدائش کے طور پر منایا جاتا ہے ، حصب معمول اس سال بھی یہ معاملہ زیر بہث رہا کہ '' میری کرسمس کہنا چائہے یا نہی ، ہم کس بات کی خوشی
منائیں ؟ غیر مسلموں کو مبارک
دینی چاہئے یا نہی ؟؟
ایک موقف یہ
ہے کہ میری کرسمس کہنا شرک ہے ، کیونکہ
عیسائی حضرت مسیح کے بارے ایسا عقیدہ رکھتے
ہیں جو سراسر شرک ہے ۔
ایک موقف یہ
ہے کہ جس طرح ہم اپنے نبی کی ولادت کی
خوشی اور جسن مناتے ہیں اسی طرح حضرت عیسی ٰ بھی اللہ کے نبی ہیں اور انکی پیدایش
پر ہمیں بھی خوشی کرنی چائیے
25 دسمبر گو کے کوئی مستند تاریخ نہیں ہے حضرت عیسیٰ علیہ سلام کی ولادت کی لیکن یہ تاریخ اب اسی مناسبت سے مشہور ہے ، سانٹا کلاز، کرسمس ٹری اور رینڈیر کی بگی سب مغربی کلچر ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ سلام کی ولادت بذات خود ایک بہت بڑا معجزہ ہے، اسی طرح 12 ربی الاول بھی اختلاف موجود ہے ، ایک سکول آف تھاٹ کے نزدیق یہ عین اللہ کی سنت ہے ، قرآن
وحدیث سے ثابت ہے جنکہ ایک دوسرے سکول آف تھاٹ میں یہ عین شرک ہے ، بدعت ہے ،
معاملہ جو بھی ہو بحثیت مسلمان تمام
رسولوں اور پیغمبروں پر ایمان لانا ہمارے
ایمان کا حصہ ہے ، 25 دسمبر
کے دن ہمیں اِس عظیم انسان اور نبی خدا کا ذکر ضرور کرنا چاہیے جس نے اپنی ماں کی گود میں اپنی ماں کی پاکیزگی کی گواہی دی اور فرمای
القرآن - سورۃ نمبر 19 مريمآیت
نمبر 30
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ
الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
قَالَ اِنِّىۡ عَبۡدُ اللّٰهِ ؕ اٰتٰٮنِىَ الۡكِتٰبَ وَجَعَلَنِىۡ نَبِيًّا ۞
ترجمہ:
بچہ بول اٹھا "میں اللہ
کا بندہ ہوں اُس نے مجھے کتاب دی، اور نبی بنایا
اآیت نمبر 31
وَّجَعَلَنِىۡ مُبٰـرَكًا اَيۡنَ مَا كُنۡتُۖ وَاَوۡصٰنِىۡ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ
مَا دُمۡتُ حَيًّا ۞
ترجمہ:
اور بابرکت کیا جہاں بھی میں
رہوں، اور نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کا حکم دیا جب تک میں زندہ رہوں
اآیت نمبر 32
وَّبَرًّۢابِوَالِدَتِىۡ وَلَمۡ يَجۡعَلۡنِىۡ جَبَّارًا شَقِيًّا
۞
ترجمہ:
اور اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا، اور مجھ کو جبّار اور شقی نہیں بنایا وَٱ
لسَّلَـٰمُ عَلَیَّ یَوۡمَ وُلِدتُّ وَیَوۡمَ أَمُوتُ وَیَوۡمَ أُبۡعَثُ حَیࣰّا ٣
“اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد
کے دن ، اور میری وفات کے دن، اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گا۔۔۔”
آیت نمبر 34
ذٰ لِكَ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ ۚ قَوۡلَ الۡحَـقِّ الَّذِىۡ فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ۞
ترجمہ:
یہ ہے عیسٰی ابن مریم اور یہ
ہے اُس کے بارے میں وہ سچی بات جس میں لوگ شک کر رہے ہیں
.png)
.png)
Well said tayab bhai
ReplyDeleteWell said tayab bhai
ReplyDelete