what are our priorities
یہ انٹرنیٹ کا دور ہے
ہر بندہ دنیا کو اپنے ہاتھ میں لئے
پھرتا ہے جن دوستوں یاروں سے جا کر کے
ملنا مشکل تھا وہ اب پلک جھپکتےے ہی ایک دوسرے کے سامنے ہوتے ہیں، دنیا بھر سے لوگ ایسے گفتگو میں شامل ہوتے ہیں کہ
محسوس ہوتا جیسے ایک ہی ٹیبل پر بیٹھے باتیں کر رہے ہوں ۔ ایک ہی
وقت میں کئی لوگوں کے ساتھ بات چیت
بہت ہی آسان ہے ، کالج کے دوستوں کا الگ گروپ بنا ہے یونیورسٹی کے دوستوں کی
الگ بیٹھک جمتی ہے وقت اچھا کٹ جاتا ہے ہم
خیا ل لوگوں سے نرم گرم بحث میں دل کا غبار بھی نکل جاتا ہے ہنسی مذاق بھی ہو جاتا ہے پرانی باتیں
اور یادیں بھی دہرا لی جاتی ہیں ، اپنی اپنی
پارٹی کی سپورٹ میں دلائل دئے جاتے ہیں جب دلائل ختم ہو جائیں تو بات تو تو میں میں
پر بھی آجاتی ہے ، کبھی شعر شاعری کا دور چلتا ہے کبھی دین سیکھانے والے بھی سرگرم
ہوجاتے ہیں کبھی اردو سے دوری ختم کرنے کے لئے کی پیڈ اردو کر لیا جاتا ہے اور املا
کی درستگی کی کلاس شروع ہوجاتی ہے ، بات سے بات نکلتی رہتی ہے رات ڈھلتی رہتی ہے بات
چلتی رہتی ہے۔ کل بیٹھے بیٹھے میں نے ایک وٹس آپ گروپ میں دوستوں سے پوچھا کہ آج سب
لوگ اپنا کوئی ایک کام بتائیں جس پر آپ فخر کر سکیں کے یہ کام میں نے اپنے ملک کے لئے
کیا ہے ، سوال تو میں نے لکھ دیا پیغام سب
تک پہنچ گیا اور میں سوچنے لگا کے میں نے ایسا کون سا کام کیا ہے جس پر مجھے فخر ہو
کے یہ کام میں نے اپنے ملک کے لئے کیا ہے ایک
ایک کر کے کافی سارے کام یاد آئے پر تھوڑا غور کیا تو ان سب میں وطن کے محبت کی جگہ
پاپی پیٹ ہی سبب نظر آیا ، سوچ کا زاویہ بدلتا
گیا اور خیال آیا کہ میں کون سا فوجی ہوں جو
ملک کے لئے جان پیش کرتا ناہی میں ڈاکٹر ہوں جو ملک کے غریبوں کا مفت علاج کر سکتا ، نا ہی میں
سائنسدان ہوں جو اپنی کسی حیرت انگیز ایجاد سے ملک کا نام روشن کر تا ،سیاستدان بھی
نہین ہوں کہ چلو پکی نالیاں سولنگ سرکیں ہی بنوا دیتا میں تو ایک عام آدمی ہوں ،سوچ کا تانا باناموبائل
کی بیپ نے توڑا میں سمجھا کہ چلو میں نے تو
کچھ نہیں کیا پر اس بندے نے ضرور کوئی کار خیر کیا ہوگا مسج کھولا تو مایوسی ہوئی میجر امتیاز تھے موصوف نے پاک آرمی کی مدح سرائی میں لمباچوڑا مسج
کیا جو انہیں کسی اور محب وطن نے فارورڈ کیا
تھا ۔ میجر صاحب ایم ایس سی میں میرے کلاس
فیلو تھے آج کل ریٹائر ہیں اور ن لیگ کے ہامی ہیں
جس پر فوج کو بدنام کرنے کے الزام ہیں ۔ میں نے اپنا سوال پھر دہرایا اور تسلی کے لئے کے کہیں انٹرنیٹ کی سلو سپیڈ کی وجہ سے سوال راستے میں اٹک نہ گیا ہو دوبارہ
اسی پیغام کو کاپی پیسٹ کر کے سنڈ کیا اتنی دیر میں
ارسلان بھائی کا پیغا م میرے سامنے سکرین پر تھا لکھا تھا کے میں نے ڈیم کے لئے دس ہزار کا عطہ دیا ہے پی ٹی آئی کو
پرموٹ کیا ہے اور انہوں نے
National Enrolment Drive
میں نا صرف حصہ لیا بلکہ 35 ڈراپ
آوٹ بچوں کو سکول واپس داخل کروانے پر یونیورسٹی
کی طرف سے انعام بھی ملا ، اور ایم فل میں
Betterment of Education
پر تھیسز لکھا ۔ ارسلان
صاحب بڑے متحرک سماجی
اور سیاسی ورکر ہیں
ایجوکیشنسٹ
ہیں اللہ انکو اور ترقی دے کافی مصروف
آدمی ہیں اس لئے کبھی کبھی ہی شامل گفتگو ہوتے
ہیں ، ارسلان کے بعد ایک محترمہ کا
میسج تھا لکھا تھا ملک کی سلامتی کی دعا مانگتی ہوں سکول میں پرھاتی رہی ہوں اور بچوں کو تعلیم کے ساتھ
اچھی تربیت دینے کی بھی کوشش ترتی رہی ہوں تاکہ وہ اچھے شہری بن سکیں ، انکی دیکھا
دیکھی سعودی عرب میں مقیم ماجد صاحب نے بھی
لکھا کے ملک کے لئے دعا کرتا ہوں ۔ بےشک جب ہم کچھ نہی کرستے تو دعا ہی رہ جاتی ہے
کرنے کو ، ایک اور محترمہ نے اپنی خدمات ارسال
کیں لکھا تھا کے اپنے علاقے کے ایک ہسپتال
میں مریضوں کے بیٹھنے کے بنچ عطیہ کیے ، یہ
ہسپتال دل کے مریضوں کا ہے اور ایک ریسرچ پڑھی جس میں بتایا گیا تھا کہ رنگ برنگی مچھلیوں
کو دیکھ کر مریض کی
Attention Divert
ہوتی ہے جس سے مریض کے فشار خون اور دھڑکنوں میں ترتیب پیدا
ہو جاتی ہے اس لئے اس ہسپتال میں
Fish Aquariums کی ناصرف تجویز دی بلکہ دس ہزار روپے بھی
دیے اور اب چھ رنگ برنگی Fish Aquariums مریضوں کے دل کو لبھاتے ہیں انتظار میں بیٹھے مریضوں کی اچھی تفریح بھی ہوتی
ہے علاج بھی ۔ ان چار دوستوں
کے علاوہ کوئی میسج نہیں آیا اب اللہ بہتر جانتا ہے کہ باقی گروپ ممبر اس دن
مصروف تھے یا پھر میری طرح انکے پاس ایسا کوئی ایک کام بھی نہیں تھا جس پر فخر سے
کہا جا سکتا کے ہاں میں نے بھی یہ کام ملک کے لئے کیا ہے ۔ نوجوان نسل کی ترجیحات کیا ہیں ؟
کیا ہم صرف اس ملک کو کھانے کے لئے زندہ ہیں ؟
کیا
فیسبک پر کسی دوسرے ملک
یا مذہب کے خلاف پوسٹ لگا کر ہمیں حب الوطنی کی سند مل سکتی ہے ؟
حب الوطنی
ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے تو کیاصرف ڈاکٹر ، انجنئر یا فوجی ہی ملک کی خدمت کر سکتا ہے ؟
یہ ایسے سوال ہیں جو نا تو کبھی گھر میں
کسی بچے سے پوچھے جاتے ہیں نا سکول میں اس
پر بات ہوتی ہے اور نا ہی کالج یونیورسٹی میں
تو پھر ہمارے بچے ہماری نئی نسل کہاں سے حب الوطنی سیکھے گی ۔بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے ، یہیں سے عبد الستار اید ھی بنتے ہیں ،
اخلاقیات کا درس بھی اسی درس گاہ سے شروع ہوتا ہے اور حب الوطنی کا بھی ، کتنی مائیں ہیں
جو ملکی مسائل سے واقف ہیں ؟
کتنی مائیں ہیں جو سمجھتی ہیں کے پانی کو ضائع کرنے کے کیا کیا نقصانات
ہیں ؟
زیر زمیں پانی کے ذخائر ہر آنے والے دن کے ساتھ کم ہوتے جا رہے ہیں لیکن مجال ہے جو ہماری خواتیں گھریلو کام کاج میں پانی کا استعمال کم کرنے کے بارے میں سوچیں ، پاکستان میں ویسٹ مینجمنٹ ایک بڑا مسلہ ہے اگر چہ کوڑا
اٹھانا سرکار کی ذمہ داری ہے لیکن کوڑا پیدا تو ہم لوگ ہی کرتے ہیں کبھی ہم
نے سوچا کہ اگر ہم کوئی ایسے اقدام کریں جس سے کوڑے کی پیداوار میں کمی ہو تو کیا یہ
ملک کی خدمت نہ ہوگی ؟
ہم کب تک سارا ملبہ سرکار پر
ڈالتے رہیں گے ؟ ‘‘
یہ وطن ہمارا ہے ہم ہیں پاسباں اسکے’’
ہم ہر اگست یہ نغمہ اور اس جیسے کئی اور نغمے
بڑے جوش وخروش سے سنتے ہیں لیکن پاسبانی
کا سارا ذمہ سرکار پر ڈال دیتے ہیں
ہم ہزاروں روپے ڈیم کے لئے عطیہ نا دسکیں
تو کوئی بات نہیں لیکن کیا ہر اگست کے مہینے میں ہم کاغذ کی جھنڈیوں سے عارضی طور پر اپنے گھروں ،گلیوں، محلوں
کو ہرا کرنے کی بجائے بیس پچیس روپے کا پودا
لگا کر قدرتی اور دیر پا ہریالی پیدا نہی کرسکتے
؟ ۔
اپنے ملک کے ماحول کو اپنے لئے اور آنے والی نسلوں کے لئے صاف رکھنا بھی ملک کی خدمت ہے اور
ملک کی خدمت ہی اصل حب الوطنی ہے ، اپنے بچوں کو ماحول دوست بنایں درختوں کی اہمیت سمجھایں اپنے ہاتھ سے پودا لگانا سیکھا یں تا کہ کل کو اگر ان سے کوئی ایسا کام پوچھا جائے جس پر انہیں فخر ہو تو وہ فخر سے بتا سکےں کے میرا لگایا ہوا پود ا آج بڑا درخت بن گیا ہے اور میرے
لوگوں کو آکسیجن دیتا ہے ۔۔۔
.png)
