تربیت الہامی نہیں ہوتی

0

تربیت الہامی نہیں ہوتی



مسجد جزوی طور پر بھری ہوئی تھی ، مبلغ  ممبر  پہ کھڑا وعظ کر رہا تھا کچھ لوگ چند جملے سننے کے بعد سبحان اللہ کہتے اور کچھ کا دھیان بار بار گھڑی کی طرف اٹھتا تھا ، واعض نے پر جوش انداز میں کہنا شروع کیا  ـ‘‘  میرے غوث  پاک سرکار  پیران پیر روشن ظمیر ، محبوب سبحانی الحسنی والحسینی ، شیخ عبدالقادر جیلانی کے پاس ایک دن ایک عورت حاضر ہوئی عورت کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا ، عورت نے عرض کی حضور میرا یہ بیٹا گڑ بہت کھاتا ہے اسے نصیحت فرمائیں  .  غوث باک سرکار نے فرمایا بی بی کل آنا  ۔ 

عورت اگلے دن پھر آئی  ساتھ وہی بچہ تھا دوبارا عرض کی حضرت  بیٹا گڑ بہت کھاتا ہے نصیحت فرمائیں ،  شیخ عبد القادر  نے پیار سے بچے کے سر پہ ہاتھ پھیرا اور فرمایا بیٹا گڑ مت کھایا کرو ،  عورت نے حیرانی سے عرض کی حضرت کوئی تعویز  ،  کوئی دم درود  ؟؟

آپ نے فرمایا کہ دم یا تعویز کی ضرورت نہیں ہے بس سمجھا دیا ہے اب نہیں کھائے گا گڑ تیرا بیٹا   عورت مزید حیرانی سے عرض کرنے لگی کہ حضرت اگر اتنا ہی کہنا تھا تو کل ہی کہ دیا ہوتا میں دور سے آئی تھی مجھے چکر نا پڑتا  ۔  غوث پاک مسکرائے اور فرمایا بی بی کال میں نے خود گڑ کھایا تھا تو میں اس بچے کو کیسے منع کرتا ـــ’’  ساری مسجد سبحان اللہ کے نعرے سے گونج اٹھی  مبلغ  صاحب تو غوث پاک کی مزید کرامات گنوانے میں لگ پڑے لیکن میں پہلی کرامت کے بارے سوچتا رہا  ،  دن میں روزانہ پانچ دفع ہر مسجد میں امام صاحب اپنے اور امت کے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں ، نیکی کرنے کی توفیق مانگتے ہیں ،گناہ سے بچنے کی طاقت مانگتے ہیں ، ہر جمع مسجد وں میں اصلاح امت کے لئے زوروشور سے تقریریں ہوتی ہیں ، کبھی حور فردوس کا لالچ دے کر کبھی عزاب النار  سے ڈرا کر اعمال صالح کی ترغیب دی جاتی ہے مگر معاشرے میں خلاقی برایاں روزبروز بڑھتی جاتی ہیں  خدا معلوم واعظوں کی زبان میں اثر نہیں یا ہمارے دلوں پر مہر  اور کانوں پر پردے ڈال دئے گئے ہیں ۔

کسی بھی معاشرے میں خاندان کے بعد  مذہب اور تعلیم ایسے ادارے ہیں جو تربیت کے لئے زمہ دار ہوتے ہیں پریچنگ اور ٹیچنگ  دونوں بڑے مقدس  کام ہیں نبیوں اور پیغمبروں  والے کام ،  لیکن آج کے دور میں نہ تو پریچروں کی زبان میں اثر نظر آتا ہے اور نا ٹیچرز اپنے پیشے سے انصاف کرتے نظر آتے ہیں ،  ہمارے ہاں رسمی تعلیم پر جتنا زور دیا جارہا  ہے غیر رسمی تعلیم پر اتنا نہی دیا جارہا ، ہمارے استادوں کے نزدیک سلیبس کور کروانا ہی ٹیچنگ ہے  تربیت پر دھیان نہیں ہے  ۔  کچھ مہینے پہلے پرائمری ٹیچرز کی ایک ٹرینگ ہو رہی تھی اس ٹرینگ  میں میرا بھی لکچر تھا ، میں بات کر رہا تھا معاشرے میں استاد کے مقام کی ،  ایک معزز استاد  کھڑے ہوئے اور مجھے کہا جناب آپ جو باتیں کر رہے ہیں وہ  بڑی اچھی ہیں لیکن صرف سننے اور کرنے کی حد تک  حقیقت  میں استاد کی کوئی عزت نہیں کرتا لوگ ایم پی اے یا ایم این اے کی تو عزت کرتے ہیں لیکن استاد کی نہی ہال میں بیٹھے باقی اساتزہ نے بھی

بھی اس معزز استاد کی تاعید میں سر ہلایا ۔  میں نے اس معزز استاد سے کہا کے سر معزرت کے ساتھ میرا ایک سوال ہے آپ سے کہ آپ نے اپنی پوری سروس میں کبھی بچوں کو یہ بتایا ہے کہ ہمارے ووٹوں کی طاقت سے  یہ لوگ ان سیٹوں پر بیٹھتے ہیں ، MNA  اور MPA  جو ایلکشن سے پہلے آپ کے آگے ہاتھ پھیلا کر ووٹوں کی بھیک مانتے ہیں وہ ہمارے  خادم ہیں  انکو اتنا سر پہ نہیں چڑھانا چاہئے  

  میرے سوال پر ہال میں چند لمحے خاموشی رہی  کوئی جواب نہیں آیا ،  تربیت کی زمہ داری  یا تو والدین کی ہے یا استاد کی اگر تربیت ہوگئی تو ٹھیک ورنہ عام انسانوں کی تربیت الہامی نہیں ہوتی ۔


Tags

Post a Comment

0 Comments
Post a Comment (0)
To Top