Is religion an obstacle to social development ?

0

کیا مذہب سماجی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے ؟

Is religion an obstacle to social development


کیا آپ نے کبھی سنا کے  مولوی کو سیاست سے نکالو پھر ترقی ہوگی ؟ یا سیاست پر مذہب کی اجارہ داری  ہمارے مسائل کا باعث ہے۔کیا سچ  میں مذہب سماجی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے  اس بات کو سمجھنے کے لیئے پہلے ہمیں  دیکھنا ہوگا کہ سماجی ترقی کیا ہے ۔

سماجی ترقی مختلف سماجی سہولیات ، جیسے تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، اقتصادی مواقع، اور سماجی انصاف کے ذریعے افراد  کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کا عمل ہے۔ اس میں سماجی اشاریوں کی بہتری شامل ہے، جیسے خواندگی کی شرح، غربت کی سطح، اور متوقع عمر۔ سماجی ترقی کا اقتصادی ترقی سے گہرا تعلق ہے، کیونکہ دونوں عمل پائیدار ترقی اور سماجی استحکام کے لیے ضروری ہیں۔

کیا مذہب سماجی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے ؟

  تمام  مذاہب اپنے پیروکاروں کو ایک بہتر دنیا کے لیے جدوجہد کرنے اور کم مالی حثیت کے لوگوں کی  دیکھ بھال کرنے کی ترغیب دے کر، سماجی ترقی کے لیے تحریک کا ذریعہ بنتا ہے۔ مذہب اخلاقی اقدار کا ایک فریم ورک  فراہم کرتا  ہے جو ایک  منصفانہ معاشرے کی ترقی کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ تاہم، مذہب اس وقت رکاوٹ بن سکتا ہے جب اسے امتیازی سلوک یا تشدد کا جواز پیش کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مذہب سماجی زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے،  یہ ایک اخلاقی کمپاس ہے جو صیح اور غلط کی سمت متعین کرتا ہے ، یہ  مشترکہ عقائد، اور برادری کا احساس فراہم کرتا ہے دنیا کے سبھی مذاہب کے ماننے والے  مشترکہ عقائد ، کو مانتے ہیں ، مسلم عیدیں ، جمعہ ، رمضان  مناتے ہیں ، ہندو اپنے تہوار ، عیسائی اور یہودی اپنے ۔  کسی بھی معاشرے میں یہ قوانین اور سماجی نظم کی بنیاد کے طور پر بھی کام کرتا ہے، زندگی میں مقصد اور معنی کا احساس پیش کرتا ہے۔ہر مذہب کے پیروکار وں کے کچھ نا کچھ مقاصد ہیں جن کو  مذہبی فریضہ کے طور پر لیا جاتا ہے ،


:You may also like

4 Steps to Staying Motivated

مذہبی عقائد

مذہبی عقائد اور طرز عمل انسان کی اقدار، رویوں  کوتشکیل دیتے  ہیں۔ مذہب زندگی میں تعلق، شناخت اور مقصد کا احساس پیش کر سکتا ہے، ساتھ ہی ضرورت کے وقت سکون اور طاقت کا ذریعہ بھی ہے۔ ہر مذہب میں خدا کا تصور موجود ہے اور مشکل اوقات میں اسے کو پکارا جاتا ہے اسی سے مدد مانگی جاتی ہے ۔ یہ ایک اخلاقی ضابطہ اخلاق بھی  ہے، جو لوگوں کو اخلاقی فیصلے کرنے اور اخلاقی سالمیت کیے ساتھ زندگی گزارنے میں مدد د کرتا  ہے۔ گناہ و ثواب کا تصور بھی دنیا کے سبھی مذاہب میں موجود ہے ، اخلاقی تعلیم کا سارا نصاب مذہب سے ہی ممکن ہے 

مذہب سماجی ہم آہنگی کا ذریعہ بن سکتا ہے، جو لوگوں کو اکٹھا کرنے اور ایک  عقیدے رکھنے والے لوگوں کے  درمیان مضبوط تعلقات استوار کرنے میں مدد کرتا ہے۔ مسلمان دنیا میں کہیں بھی ہو دوسرے مسلمان کے ساتھ زبان کے معاملات کے باوجود  کچھ مشترک چیزوں کی وجہ سے اپنائیت محسوس کرتا ہے ، اور یہی بات دوسرے تمام مذاہب کے ماننے والے بھی محسوس کرتے ہیں ۔

 یہ سماجی تبدیلی کا ذریعہ بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ مذہبی عقائد اور اقدار لوگوں کو سماجی انصاف اور امن کے لیے اقدامات کرنے کی ترغیب دیتا ہے ۔

مظلوم کا ساتھ دینا اور برائی کے خلاف طاقت کے استعمال کی بھی ہر مذہب تلقین کرتا ہے ۔

ایک سکول آف تھاٹ کے نزدیک مذہب اور سماجی انتظام یعنی سیاست دو الگ چیزیں ہیں ، اکثر ممالک میں قانونی طور پر مذہب اور سیاست کو الگ کیا گیا ہے ، پاکستان میں بھی ایک طبقہ اسی سوچ کا حامل ہے کہ مذہب سماجی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے ، 

مذہب کا ہماری سماجی زندگی میں کردار

مجموعی طور پر، مذہب سماجی زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے،  یہ ایک اخلاقی فریم ورک ہے ، مذہب لوگوں میں ایک   مقصد کا احساسن پیدا کرتا ہے ، مذہب لوگوں کو اکٹھا کرنے یا انہیں الگ کرنے کی صلاحیت رکھتا  ہے۔ یوں یہ انسانی سماجی زندگی کا ایک انمول حصہ ہے جس کے بغیر  باقی سوشل انسٹیٹیوٹ اعتدال میں نہی رہ سکتے ۔

Tags

Post a Comment

0 Comments
Post a Comment (0)
To Top